read tundi e baad e mukhalif se —
تُندی بادِ مُخالِف سے نہ گھبرا اے عُقاب
یہ تو چلتی ہے تُجھے اُنچا اُڑانے کے لِیے
tundi e baad e mukhalif se na ghabra aye uqab
ye tu chalti ha tujhe uncha urane ke liye
بہت سے لوگ اس شعر کو جناب علّامہ اقبال سے منسوب کرتے ہیں حالانکہ ایسا نہیں ہے۔ یہ شعر جناب سیّد صادق حسین صاحب کا ہے۔
This sher have the best motivation for those peoples who are afraid of hardships in life. In this sher poet is asking that man, not to be afraid of hurdles in life. Like possible is hidden in word “imposibble“. Life is full of challenges and we have to face those challenges with tolerance.
مکمل غزل پڑھیے۔
تٌو سمجھتا ہے حوادث ہیں سٌنانے کے لیے
یہ ہٌوا کرتے ہیں ظاہر آزمانے کےلیے
تُندی بادِ مُخالِف سے نہ گھبرا اے عُقاب
یہ تو چلتی ہے تُجھے اُنچا اُڑانے کے لِیے
کامیابی تو ہٌوا کرتی ہے ناکامی کی دلیل
رنج آتے ہیں تٌجھے راحت دلانے کےلیۓ
نیم جاں ہے کس لیے حالِ خلافت دیکھ کر
ڈھونڈ لے کوٸ دوا اس کو بچانے کے لیے
استقامت سے اٌٹھا وہ نالہٕ آہ و فغاں
جو کہ کافی ہو درِ لندن بلانے کےلیے
آتشِ نمرود گر بھڑکی ہے کٌچھ پروا نہیں
وقت ہے شانِ براہیمی دکھانے کےلیے
(بحوالہ برگِ سبز)
thanx for free image download
Good explanation