khoob guzre gi jo mil bethain – mian dad khan sayyah

read khoob guzre gi jo mil bethain ge dewanay do, poet name mian dad khan sayyah.

قیس جنگل میں اکیلا ہے مجھے جانے دو

خوب گزرے گی جو مل بیٹھیں گے دیوانے دو

qais jangle main akela hai mujhy janay do

khoob guzre gi jo mil bethain ge dewanay do

قیّس جنگل میں اکیلا ہے مُجھے جَانے دو

خُوب گُزرے گی جو مِل بیٹھیں گے دیوانے دو

لال ڈورے تیری آنکھوں میں جو دیکھے تو کُھلا

مئہِ گُل رَنگ سے لَبریز ہیں پیمانے دو

ٹھہرو تیوری کو چڑھائے ہوئے جاتے ہو کِدھر

دِل کا صدّقہ تو اَبھی سَر سے اُتر جانے دو

مَنع کیوں کرتے ہو عِشق بُتِ شیریں لَب سے

کیا مَزے کا ہے یہ غَم دوستو غَم کھانے دو

ہم بھی مَنزل پہ پہنچ جائیں گے مَرتے کھَپتے

قافلہ یَاروں کا جاتا ہے اگر جانے دو

شمع و پروانہ، نہ محفّل میں ہوں باہم زنہار

شمع رو نے مُجھے بھیجے ہیں یہ پروانے دو

ایک عالم نظر آئے گا گرفتار تمہیں

اپنے گیسوئے رسا تا بہ کمر جانے دو

سخت جانی سے میں عاری ہوں نہایت اے تلخؔ

پڑ گئے ہیں تری شمشیر میں دندانے دو

حشر میں پیش خدا فیصلہ اس کا ہوگا

زندگی میں مجھے اس گبر کو ترسانے دو

گر محبت ہے تو وہ مجھ سے پھرے گا نہ کبھی

غم نہیں ہے مجھے غماز کو بھڑکانے دو

جوشِ بارش ہے اَبھی تھمتے ہو کیا اَے اَشّکو

دامن کوہ و بیاباں کو تو بھر جانے دو

واعظوں کو نہ کرے منع نصیحت سے کوئی

میں نہ سمجھوں گا کسی طرح سے سمجھانے دو

رنج دیتا ہے جو وہ پاس نہ جاؤ سیاحؔ

مانو کہنے کو مرے دور کرو جانے دو

read more

thanx for free image download

https://www.pexels.com/

Leave a Reply

Your email address will not be published.

CommentLuv badge
%d bloggers like this: